مظفرنگر،31مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)یوپی کے مظفرنگر ضلع سے ایک انتہائی شرمناک واقعہ سامنے آیا ہے۔یہاں کستوربا رہائشی اسکول میں طالبات کو ننگا کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔سرکاری رہائشی اسکول کی وارڈن نے 70طالبات کے کپڑے اترواے ،صرف یہ جاننے کے لیے کہ کن لڑکیوں کی ماہواری چل رہی ہے۔معاملہ میں وارڈن سریکھا کو ڈی ایم نے برخاست کر دیا ہے۔معاملے کی جانچ مجسٹریٹ رینو سنگھ کو سونپی گئی ہے۔خواتین بہبود کی وزیر ریتا بہوگنا جوشی نے ڈی ایم سے واقعات کی مکمل تفصیلات لی۔کابینہ وزیر سری کانت شرما نے معاملے کی جانچ کی ہدایت دی ہے۔جمعرات کو مظفر نگر میں پیش آئے اس واقعہ کے خلاف طلباء نے سخت کارروائی کامطالبہ کیا تھا ۔دراصل وارڈن کو بیت الخلا میں خون کے داغ نظر آئے تھے، جس کے بعد اس نے لڑکیوں کے ساتھ ایسی شرمناک حرکت کی تھی، جیسے ہی واقعہ کی اطلاع تعلیمی افسر کو ملی، انہوں نے وارڈن کو معطل کر دیا ، طالبات کے اہل خانہ نے وارڈن کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔مذکورہ واقعہ گزشتہ دنوں مظفرنگر کے کھتولی میں پیش آیا ہے، سریکھا تومر نامی ایک خاتون ٹیچر کو لڑکیوں کے ہاسٹل کا وارڈن بنایا گیا تھا۔بتایا جا رہا ہے کہ ہاسٹل کے بیت الخلا میں وارڈن کو کچھ خون کے دھبے نظرآئے ۔وارڈن اس بات سے چڑھ گئی کہ کسی طالبہ جس کی ماہواری چل رہی ہے ،اس نے بیت الخلاء کا استعمال کرنے کے بعد پانی کیوں نہیں ڈالا۔اس بات سے ناراض وارڈن نے 70طالبات کے ساتھ ایسی شرمناک حرکت کر ڈالی، ان کے کپڑے اترواے اور یہ دکھانے کو کہا کہ آخر کس کی ماہواری چل رہی ہے۔اس وقت تو طالبات نے مخالفت نہیں کی، لیکن جب انہیں سمجھ میں آیا کہ ان کے ساتھ اس طرح کی گھناؤنی حرکت نہیں ہونا چاہیے تھی، تب انہوں نے مخالفت کرنی شروع کر دی ۔